آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی فائن آرٹس کمیٹی کے زیر اہتمام آرٹ پر مبنی نمائش”Tasalsul Group Show” کا افتتاح

M Ahmed Shah

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی فائن آرٹس کمیٹی کے زیر اہتمام آرٹ پر مبنی نمائش”Tasalsul Group Show” کا افتتاح

آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی فائن آرٹس کمیٹی کے زیر اہتمام آرٹ پر مبنی نمائش”Tasalsul Group Show” کا افتتاح

نوجوان نسل تیزی سے آرٹ اور ثقافت کی طرف راغب ہو رہی ہے، صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ

آرٹس کونسل میں موسیقی، تھیٹر، ادب اور دیگر شعبے بھرپور انداز میں فعال ہیں۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ

کراچی (indus icon) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی فائن آرٹس کمیٹی کے زیر اہتمام آرٹ پر مبنی نمائش”Tasalsul Group Show” کا انعقاد احمد پرویز آرٹ گیلری میں کیا گیا۔ جس کا افتتاح مہمان خصوصی صوبائی وزیر ثقافت ، سیاحت، نوادرات و آرکائیوز سندھ سید ذوالفقار علی شاہ نے صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ کے ہمراہ کیا۔ نمائش میں فائن آرٹس کمیٹی کے چیئرمین فرخ تنویر شہاب، معروف مصور شاہد رسام، محمد ذیشان، نذرالاسلام، سلیم رضا سمیت فن مصوری سے وابستہ شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ آرٹ نمائش کے کیوریٹر معروف مصور تنویر فاروقی ہیں جبکہ نمائش میں 30 آرٹسٹوں کے 37 فن پارے رکھے گئے ہیں۔ آرٹسٹوں نے اپنے فن پاروں میں کراچی کی روشنی، گہماگہمی اور اس کی مسلسل بدلتی فضا کو اپنے فن میں سمویا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر ثقافت سید ذوالفقار علی شاہ نے کہا کہ آج یہاں پینٹرز اور فنکار بڑی تعداد میں شریک ہیں، جنہوں نے اپنے فن اور رنگوں سے اس ماحول کو خوبصورت بنا دیا ہے۔ آرٹس کونسل آج واقعی رنگوں، تخلیقی اظہار اور ثقافتی سرگرمیوں سے جگمگا رہی ہے۔میں خوشی سے دیکھ رہا ہوں کہ نوجوان نسل تیزی سے آرٹ اور ثقافت کی طرف راغب ہو رہی ہے، جو ایک مثبت اور حوصلہ افزا بات ہے۔ فرخ شہاب نے ان مختلف رنگوں، سوچوں اور فنکاروں کو ایک جگہ جمع کرنے کی خوبصورت کوشش کی ہے۔آرٹس کونسل ہمیشہ ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے اہم کردار ادا کرتی رہی ہے اور مختلف نوعیت کی تقریبات کے ذریعے فن اور ثقافت کو آگے بڑھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم یہ کوشش کر رہے ہیں کہ سندھ بھر کی تمام آرٹس کونسلز میں مضبوط اور فعال باڈیز قائم کی جائیں تاکہ ہر شہر میں فنکاروں کو بہتر مواقع میسر آسکیں۔انہوں نے کہا کہ ثقافتی سرگرمیوں کے ذریعے پاکستان کا نرم اور مثبت تشخص پوری دنیا میں اجاگر ہو رہا ہے۔ ورلڈ کلچر فیسٹیول کی گونج اور اس کی بکنگ دنیا بھر میں ہو رہی ہے، محمد احمد شاہ ورلڈ کلچر فیسٹیول جیسے کارنامے کے لیے ستائش کے مستحق ہیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ عالمی سطح پر پاکستان کی ثقافتی شناخت کو پذیرائی مل رہی ہے۔انہوں نے میڈیا کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگ پاکستان کی مثبت اور خوبصورت سرگرمیوں کو دنیا بھر تک پہنچا رہے ہیں، جو قابلِ تحسین ہے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں فرخ شہاب کو گزشتہ چار دہائیوں سے جانتا ہوں۔ وہ نہ صرف ایک باصلاحیت فنکار ہیں بلکہ آرٹس کونسل کی گورننگ باڈی کے اہم رکن بھی ہیں، آج بہت سے لوگ کیوریٹنگ کے شعبے میں کام کر رہے ہیں اور آرٹ کی مختلف جہتوں کو متعارف کرا رہے ہیں۔ میری خواہش ہے کہ جس طرح آرٹس کونسل میں موسیقی، تھیٹر، ادب اور دیگر شعبے بھرپور انداز میں فعال ہیں، اسی طرح فائن آرٹس اور کیوریٹنگ کے شعبے کو بھی مزید متحرک اور مؤثر بنایا جائے۔ہم آرٹس کونسل کے مختلف شعبہ جات کو فعال بنانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں تاکہ نوجوانوں اور سینئر فنکاروں کو بہتر مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ نمائش میں سینئر آرٹسٹوں کے فن پارے بھی آویزاں کیے گئے ہیں جو نوجوان نسل کے لیے سیکھنے اور متاثر ہونے کا بہترین ذریعہ ہیں۔ آرٹس کونسل نوجوان اور سینئر آرٹسٹوں کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہے، جہاں تجربہ اور نئی سوچ ایک ساتھ آگے بڑھتے ہیں۔فائن آرٹس کمیٹی کے چیئرمین فرخ تنویر شہاب نے کہا کہ ہمیں اپنے ملک کے نوجوان اور سینئر آرٹسٹس کی بھرپور حوصلہ افزائی اور سرپرستی کرنی چاہیے کیونکہ فن اور فنکار کسی بھی معاشرے کی شناخت اور ثقافتی ورثے کا اہم حصہ ہوتے ہیں۔ نمائش میں شریک تمام مہمانوں، آرٹ کے شائقین اور فنکاروں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔آرٹ نمائش میں اے کیو عارف، ابیحہ مرزا، عابد حسن، اکرم اسپال، عالیہ فیض، عامر کھتری، انالحق، عارف انصاری، ارسلان نقوی، اسما بیگ، فرخ شہاب، فوزیہ خان، حاجرہ خان، انشال طاہر، خسرو سبزواری، معظم علی، نثار احمد، ایس اے نوری، ایس ایم فواد، ایس ایم نقوی، سعدیہ عارف، سلمان فاروقی، ثمینہ ممتاز، شہزاد زر، شان امروہوی، شازیہ سلمان، تعبیر، وصی حیدر، ظفر محمود اور زلیخہ مندوخیل کے فن پارے شامل تھے۔ آرٹ نمائش”Tasalsul Group Show” دوپہر 12 تا رات 8 بجے 23 مئی تک احمد پرویز آرٹ گیلری ، دوسری منزل ، احمد شاہ بلڈنگ میں جاری رہے گی۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *