آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر منیر نیازی کی یاد میں’’بیادِ منیر نیازی‘‘ کے عنوان سے پروقار تقریب کا انعقاد
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر منیر نیازی کی یاد میں’’بیادِ منیر نیازی‘‘ کے عنوان سے پروقار تقریب کا انعقاد
منیر نیازی کی شاعری کی خاص بات تھی کہ وہ معمولی سے الفاظ میں پورا منظر تخلیق کر دیتے تھے۔معروف شاعرہ زہرا نگاہ
ہم ہر ماہ ایک بڑے ادیب و شاعر کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ
کراچی (indus icon ) آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیرِ اہتمام معروف شاعر منیر نیازی کی یاد میں’’بیادِ منیر نیازی‘‘ کے عنوان سے پروقار تقریب کا انعقادحسینہ معین ہال میں کیا گیا۔ تقریب کی صدارت ممتاز شاعرہ زہرا نگاہ نے کی۔ تقریب میں صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ، معروف صحافی و ادیب انور سن رائے، فاضل جمیلی اور کاشف رضا نے منیر نیازی پر سیر حاصل گفتگو کی۔ تقریب کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبرین حسیب عنبر نے انجام دیے۔ منیر نیازی کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے تقریب میں معروف ادبی و سماجی شخصیات کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ اس موقع پر صدارتی خطبے میں زہرا نگاہ نے کہا کہ منیر نیازی کا شمار اہم ترین شعرا میں ہوتا تھا اور ہوتا رہے گا، میری بدقسمتی یہ رہی کہ منیر نیازی سے زیادہ ملاقاتیں نہیں ہو سکیں، مگر ان کے کلام سے میری بہت گہری شناسائی رہی۔ افسانہ نگار و شاعر سلیم الرحمن نے منیر نیازی کی شاعری کو بڑی خوبصورتی سے مرتب اور پیش کیا ہے۔ منیر نیازی کی شاعری میں ہوا، شام اور موت تین بنیادی عناصر نمایاں ہیں، یہی عناصر ان کی شاعری کو ایک خاص فضا اور معنویت دیتے ہیں۔ہوا، آسمان، درخت، پرندے اور دروازےیہ سب منیر نیازی کی شاعری میں محض علامتیں نہیں بلکہ ان کے ہم سفر ہیں، خاص طور پر پرندے جو ان کی شاعری میں ایک مکمل استعارے کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔اکثر میں یہ بات دہراتی ہوں کہ کسی شاعر کا پہلا مجموعہ یا پہلی غزل ہی اس کے پورے تخلیقی سفر کا پتہ دے دیتی ہے جیسے علامہ اقبال کی پہلی نظم ’’ہمالہ‘‘ ان کی فکری سمت کو واضح کر دیتی ہے۔ بعض اوقات ایسی کیفیت ہوتی ہے جیسے دور سے کسی شہنائی ، کسی قافلے ، یا کسی پرانے سردار کی آوازکوئی آواز آرہی ہو۔ بعض اشعار ایسے ہوتے ہیں جو سننے والوں کے دل میں ہمیشہ کے لیے بس جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ منیر نیازی کی شاعری کی خاص بات تھی کہ وہ معمولی سے الفاظ میں ایک پورا منظر تخلیق کر دیتے تھے۔ ان کے ہاں خیال کی تازگی اور بیان کی سادگی مل کر ایک دل فریب کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ منیر نیازی کی شاعری نے ہمیشہ اپنے مخصوص اسلوب کو برقرار رکھا۔ منیر نیازی نہ صرف اردو بلکہ پنجابی میں بھی شاعری کرتے تھے اور اپنی پنجابی شاعری بھی بڑے شوق سے سنایا کرتے تھے۔ ان کی پنجابی شاعری میں بھی وہی تخیل، وہی منظر نگاری اور وہی احساس کی گہرائی نظر آتی ہے جو اردو شاعری میں ملتی ہے۔ منیر نیازی نے کلاسیکی روایت اور مذہبی و ثقافتی حوالوں سے بھی اپنی عقیدت کا اظہار کیا اور یہی چیز ان کی شاعری کو ایک خاص وقار اور معنویت بخشتی ہے۔ آخر میں زہرانگاہ نے ’’انقلاب ایران‘‘ پر اپنا کلام پیش کیا جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔ صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ نے کہا کہ ہمارے پاس ادب کی ایک ہی ملکہ ہیں اور وہ زہرا نگاہ ہیں، انور سن رائے کا گھر ہمارے لیے ہائیڈ پارک تھا، انور سن رائے کے گھر کے دروازے ادیبوں کے لیے ہمیشہ کھلے رہے۔ کاشف رضا اور فاضل جمیلی کا بھی بے حد شکریہ انہوں نے منیر نیازی کی شاعری پر سیر حاصل گفتگو کی۔ ہم نے اردو کے اہم ترین شاعر کو خراج پیش کیا ہے۔ ہم ہر ماہ بڑے ادیب و شاعر کو خراج تحسین پیش کریں گے۔ معروف صحافی و ادیب انور سن رائے نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ منیر نیازی کے نزدیک شاعری محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک گہری داخلی کیفیت کا اظہار ہے۔وہ کہا کرتے تھے کہ شاعری ایک زندہ چیز ہوتی ہے۔ منیر نیازی کے مطابق شاعری خود بھی یہ دیکھتی ہے کہ یہ کیسا شخص ہے، کیا اس کے پاس جانا چاہیے یا نہیں۔ یعنی شاعری ہر کسی کے پاس نہیں آتی، بلکہ وہ اسی شخص کو ملتی ہے جس کے اندر حساسیت، صداقت اور احساس کی گہرائی موجود ہو۔منیر نیازی اپنی شاعری میں پہاڑ، صحرا اور جنگل جیسے استعارے استعمال کیا کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے کہ اگر کسی ملک میں پہاڑ، صحرا اور جنگل نہ ہوں تو وہ ملک مکمل نہیں ہوتا۔منیر نیازی کے نزدیک کسی معاشرے اور ملک کی تکمیل صرف عمارتوں اور شہروں سے نہیں ہوتی بلکہ فطرت جیسے جنگل، صحرا اور پہاڑبھی اس کی شناخت اور حسن کا اہم حصہ ہوتے ہیں، اور یہی احساس ان کی شاعری میں بھی نمایاں نظر آتا ہے۔ صحافی و شاعر فاصل جمیلی نے کہا کہ منیر احمد دنیاۓ ادب میں منیر نیازی کے نام سے مشہور تھے، منیر نیازی ایک منفرد اور حساس شاعر تھے۔ منیر نیازی جب بات کرتے یا چلتے تو یوں محسوس ہوتا جیسے کوئی خواب میں بول رہا ہو۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب سا سحر اور خاموشی کی گہرائی تھی۔منیر نیازی کا یہ خیال تھا کہ پچاس یا سو سال بعد جب ادب کی حقیقی چھانٹی ہوگی تو اس وقت معلوم ہوگا کہ اصل بڑا شاعر کون ہے۔منیر نیازی کو زندگی میں جو کچھ بھی ملا وہ اسی پر خوش ہو جاتے تھے،منیر نیازی کی شاعری بھی ان کی شخصیت کی طرح کئی رازوں سے بھری ہوئی ہے، اور وہ ایک ایسی زندگی کے خواہش مند تھے جو بہت زیادہ پیچیدہ اور مشکل نہ ہو بلکہ سکون اور سادگی سے بھرپور ہو۔ادیب کاشف رضا نے کہا کہ منیر نیازی کو صرف شاعر کہنا کافی نہیں، وہ دراصل ایک مصور کی طرح تھے، انہوں نے لفظوں کے ذریعے ایسی تصویریں بنائیں جو قاری کے ذہن میں واضح منظر کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ان کی شاعری کی خاص بات یہ ہے کہ وہ بڑی باتوں کو چھوٹی چھوٹی جزئیات کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ ان کے ہاں ہر لفظ ایک برش اسٹروک کی طرح ہوتا ہے، جو مل کر ایک مکمل تصویر بناتا ہے۔ منیر نیازی کی شاعری میں ہمیں ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی پینٹنگ ہماری آنکھوں کے سامنے زندہ ہو گئی ہو۔ان کا کلام صرف پڑھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے۔