*آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ کا اختتام معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے جشن پر ہوا، افواج پاکستان کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا*

karachi news

*آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ کا اختتام معرکہ حق کی پہلی سالگرہ کے جشن پر ہوا، افواج پاکستان کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا*

*معرکہ حق کی پہلی سالگرہ پر افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں،صدر آرٹس کونسل محمد احمد شاہ*

کراچی (indus icon)آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ ’’آرٹس المنائی فیسٹیول‘‘ کا اختتام ’’معرکۂ حق‘‘ کی پہلی سالگرہ کا جشن مناتے ہوئے رنگارنگ ثقافتی جشن پر کیا گیا جس میں ثقافتی پرفارمنسز کے ذریعے افواج پاکستان کو شاندار خراج تحسین پیش کیا گیا، معرکہ حق کے حوالے سے منعقدہ تقریب میں پہلی سالگرہ کے موقع پر کیک بھی کاٹا گیا، اس موقع پر صدر آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی محمد احمد شاہ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں میوزک، فائن آرٹس، تھیٹر اور ڈانس سمیت مختلف اکیڈمیز فعال ہیں، جہاں نوجوانوں کو فنونِ لطیفہ کی تربیت دی جا رہی ہے اور انہیں عملی میدان کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ہماری کوشش ہوتی ہے کہ طلبہ کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کیا جائے جہاں وہ اپنی صلاحیتوں کو نکھار سکیں اور انڈسٹری میں باعزت مقام حاصل کر سکیں۔ پاکستان کی کامیابی اور ترقی پر ہر شہری کو فخر ہونا چاہیے، اور قومی فتوحات قوم کے اتحاد اور حوصلے کی علامت ہوتی ہیں۔ماضی میں ملک کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا، تاہم پاکستان نے ہمیشہ اپنے دفاع میں مضبوط اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔میں افواجِ پاکستان کو خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں ۔ جنرل عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے ملک کے دفاع اور وقار کو مضبوط بنایا ہے، جس کی بدولت پاکستان کا نام دنیا میں مزید بلند ہوا ہے۔ملک کے لیے شہداء کی قربانیاں ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں۔میں شہداء کے اہلِ خانہ خصوصاً ماؤں، بیٹیوں اور بیویوں کو سلام پیش کیا۔آخر میں انہوں نے ہال پاکستان زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا۔ فیسٹیول کے آخری روز ’’Faculty Talk Session ‘‘، دو تھیٹر پلے ’’پیلے اسکوٹر والا آدمی‘‘اور انتظار پیش کیا گیا، ’’Dance Rhythm of Life ‘‘ اور میوزیکل نائٹ میں المنائی نے بہترین پرفارمنس کا مظاہرہ کیا۔ فیسٹیول کے تیسرے روز کا آغاز ’’Faculty Talk Session ‘‘ سے کیا گیا جس میں اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے فیکلٹی ممبرز محمد ذیشان ، ایم علی ، فہیم راؤ، بلال مقصود ، نعمان صدیقی ، نذرالسلام ، محمد کاشف ، عظمیٰ نور اور اویس راجپوت نے اظہار خیال کیا۔ سیشن میں طلبہ و طالبات نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ سیشن کی نظامت کے فرائض شاہد رسام نے انجام دیے۔ فیکلٹی ممبر محمد ذیشان نے کہاکہ آپ خود کو کسی اچھے منٹور کے ساتھ جوڑیں کیونکہ آپ اپنی زندگی کی ہر بات ان سے کرسکتے ہیں، فیکلٹی ممبر محمد علی نے کہاکہ آرٹس کونسل کے طلبہ وہ ہیں جو خود کچھ بننے کا جذبہ رکھتے ہیں۔کامیابی صرف پیسہ کمانے کا نام نہیں بلکہ کسی ایک شعبے میں اپنی پہچان بنانا ہے۔ فہیم راؤ نے کہاکہ آرٹس کونسل میں ہر شخص کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔میں یہاں سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد دوبارہ بطور استاد واپس آیا۔ اویس راجپوت نے کہاکہ آرٹس کونسل دیگر اداروں سے منفرد ہے۔یہاں کے اساتذہ ہر قدم پر طلبہ کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ محمد کاشف نے کہا کہ طلبہ کو خطاطی کے فن کے بارے میں زیادہ آگاہی نہیں ہوتی۔آرٹس کونسل نے کیلی گرافی کو دوبارہ زندہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔نعمان صدیقی نے کہاکہ کسی بھی گروپ شو میں آرٹس کونسل کے طلبہ کی موجودگی لازمی محسوس ہوتی ہے۔ہمارے طلبہ صرف دو سال میں سولو شو کر رہے ہیں، جو ان کی صلاحیتوں کا ثبوت ہے۔ بلال مقصود نے کہاکہ پاکستان میں ٹیکسٹائل اور فیشن ڈیزائننگ کے شعبوں میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ نذرالسلام نے کہاکہ آرٹس کونسل میں کلاسیکل اور جدید عصری فن کے ذریعے طلبہ کو ذہنی طور پر تیار کیا جاتا ہے۔ہمارے طلبا میں بے پناہ جذبہ موجود ہے۔ عظمیٰ نور نے کہاکہ آرٹ دراصل انسان کے احساسات کا اظہار ہے۔دیگر اداروں میں صرف ڈگری کی دوڑ ہوتی ہے، لیکن یہاں طلبا میں حقیقی جنون موجود ہے۔ بھارتی اداکار، مصنف اور ڈرامہ نگارManav Kaul کا لکھا ہوا تھیٹر پلے ’’پیلے اسکوٹروالا‘‘ بے حد پسند کیا گیا جس کے ہدایت کار اور ڈرامائی تشکیل عمران فرمان تھے، فنکاروں میں اجنیش ڈوڈیجا، حسن ملک، یاسمین عثمان، فیصل خالق اور علی حسن نے بہترین اداکاری کا مظاہرہ کیا۔دوسرا تھیٹر ’’انتظار‘‘ سعادت حسن منٹو کے افسانے پر مبنی تھا جس کے ہدایت کار غلام محی الدین تھے جبکہ حریم علی، اذیب خان، حسیب رندھاوا، جان مارشل اور صدام حسین نے اپنی شاندار پرفارمنس سے حاضرین کو محظوظ کیا۔ تھیٹر پلے ’’انتظار‘‘ معروف افسانہ نگار سعادت حسن منٹو کے فکر انگیز اسلوب اور انسانی نفسیات پر گہری نظر کی عکاسی کی۔ ’’Dance Rhythm of Life‘‘ میں رقص کو زندگی کی مختلف کیفیات، جذبات اور توانائیوں کے اظہار کے طور پر پیش کیا گیا جہاں اسکول آف ویژول اینڈ پرفارمنگ آرٹس کے المنائی نے اپنی جسمانی حرکات اور موسیقی کے امتزاج سے خوشی، غم، امید اور جدوجہد سے انسانی جذبا ت کو اسٹیج پر زندہ کیا۔ آخر میں میوزیکل نائٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں پاپ اور راک میوزک کی دھنوں پر مشتمل ایک جاندار اور توانائی سے بھرپور پرفارمنس پیش کی گئی۔ آرٹس المنائی فیسٹیول 2026 کے دوران مختلف دلچسپ اور تعلیمی اور فنی سرگرمیوں جاری رہیں جس میں آرٹ پر منبی تصاویر نے شرکاء کی بھرپور توجہ حاصل کی، فیسٹیول میں بورڈ گیم ڈیزائن کی ایک خصوصی سرگرمی بھی شامل تھی، جس میں SOVAPA کے طلباء نے اپنی تخلیقی سوچ اور ڈیزائننگ اسکلز کے ذریعے نئے اور دلچسپ گیمز تیار کیے۔جبکہ ریلیف ورک کی سرگرمی بھی نمایاں رہی، جس میں انہوں نے معاشرتی خدمت کے جذبے کے تحت مختلف عملی اقدامات کیے۔ یہ سرگرمیاں نہ صرف ان کی تربیت کا حصہ تھیں بلکہ معاشرے کے لیے مثبت پیغام بھی تھیں۔ان تمام سرگرمیوں کی تصاویر فیسٹیول کے دوران منعقدہ لائیو ایکشنز کی خوبصورت عکاسی کرتی ہیں، جو آرٹس، تعلیم اور سماجی شعور کے امتزاج کو ظاہر کرتی ہیں۔

Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *